بنگلورو۔30؍ اگست(ایس او نیوز/عبدالحلیم منصور) عید قرباں مسلمانوں میں جذبۂ ایثار وقربانی کے اظہار کا پیغام دیتی ہے۔ اس عید کے ذریعہ دیگر برادران وطن کو کسی طرح کی دشواری نہ ہو یہ خاص طور پر یقینی بنایا جائے۔ یہ بات ریاستی جنتادل (ایس) کے جنرل سکریٹری انور شریف نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں مسجد قادریہ میں مفتی شعیب اﷲ خان صاحب مفتی مہتمم جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم ، مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیت العلماء کرناٹک، مولانا محمد مزمل رشادی والا جاہی ، مولانا محمد ذوالفقار رضا نوری خطیب وامام مسجد حضرت بلال اور دیگر تقریباً ایک سو علماء پر مشتمل دو میٹنگوں میں طے کیاگیا کہ حکومت سے نمائندگی کی جائے کہ عید قرباں کے موقع پر مسلمانوں کو قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے قربانی کرنے میں کسی طرح کی پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں ریاستی وزراء سے بھی بات چیت ہوئی، اور ان لوگوں نے بھی حکومت سے نمائندگی کا تیقن دیا۔ انور شریف نے کہاکہ جو لوگ کم قیمت پر جانور خریدنے کی کوشش میں قریوں کا رخ کرتے ہیں انہیں اس طرح کی حرکت سے گریز کرنا چاہئے ، کیونکہ مسلسل جو لوگ مویشیوں کی تجارت میں لگے ہوئے ہیں وہ حالات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور اپنے مویشیوں کو کس طرح محفوظ طریقے سے لانا ہے وہ لاتے ہیں۔ جو لوگ قریوں میں قربانی کے جانور خریدنے جاتے ہیں اکثر اوقات ان کے مویشی پکڑ لئے جاتے ہیں اور بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔خاص طور پر چیک پوسٹ پر متعین افسران ، عملہ اور وہاں مویشیوں کو پکڑنے کیلئے تاک میں بیٹھے نام نہاد پرانی دیا سنگھا کارکن انہیں شکار بناتے ہیں۔ اسی لئے انہیں چاہئے کہ شہر کے اندر ہی مویشی خریدیں اور مویشی فروخت کرنے والوں سے صاف طور پر کہہ دیں کہ اپنا مال بیچنا ہو تو شہر کے اندر آکر بیچیں ، اس کے ساتھ ہی انہوں نے قربانی کے مرحلے میں پاکی صفائی کے خاص اہتمام کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ مذہب اسلام میں پاکی اور صفائی کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اسی لئے قربانی کے اہتمام میں صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔ جانوروں کی گندگی وغیرہ بی بی ایم پی کی طرف سے متعین مقامات پر ٹھکانے لگائیں اور اس گندگی کو سڑکوں پر پھینک کر دیگر برادران وطن کو پریشان نہ کریں ، کیونکہ ایسی کسی بھی حرکت سے برادران وطن میں مسلمانوں اور اسلام کے تئیں غلط تاثر قائم ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہئے۔